Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 18, 2024

روشنی ڈھونڈنے آئی ہے تہِ آب مجھے
اب کہیں اور چھپائے گا یہ تالاب مجھے

عمر بھر اس کی رفاقت سے بہت دور رہی
عشق کے آتے نہیں ٹھیک سے اداب مجھے

جانِ جاں وقت نکلتا ہے تو آ پاس مرے
کیا کروں میں کہ ستاتے ہیں ترے خواب مجھے

اب ترا ہجر چبائے گا کلیجہ یہ مرا
اب مرے دوست سمجھتے ہیں شفایاب مجھے

سانپ بن کر مجھے ڈستے ہیں تری یاد کے پل
نام لے کر ترا ملتے ہیں جب احباب مجھے

رات بھر میں کے تھکن اوڑ کے سوتی ہوں فقط
دیکھتے رہتے ہیں تھک ہار کے اعصاب مجھے

مجھ کو تمثیلہ جدائی نے یوں گھیرا ہے یہاں
اب دکھائی نہیں دیتا ہے کوئی باب مجھے

شاعرہ تمثیلہ لطیف

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.