محبت کا ہنر دکھلا رہی ہے
کسی کی یاد جو تڑپا رہی ہے
وہ کس کے پیار کی خوشبو ہے آخر
مجھے اندر سے جو مہکا رہی ہے
سہارا دے مجھے بانہوں کا اپنی
تری قربت مجھے بہکا رہی ہے
مجھے یہ دلنشیں یہ خواب دنیا
تری باتوں میں کیوں الجھا رہی ہے
مرے انجام کی مانگو دعائیں
محبت پر طبیعت آرہی ہے
ہوا ہے شازیہ کا اب وہ عالم
کہ وحشت بھی کرم فرما رہی ہے
شاعرہ شازیہ عالم شازی



