مجھے آواز دے کر چھپ گیا ہے
یہ دل کیسی شرارت کر رہا ہے
نظر آتا ہے اُس کو اپنا چہرہ
مری آنکھوں میں جب وہ جھانکتا ہے
مری بھی نیند اب اڑنے لگی ہے
سنا ہے وہ بھی شب بھر جاگتا ہے
میں اس لمحے کو کیسے بھول جاوں
کہ جس نے مجھ کو تنہا کردیا ہے
مرے ہاتھوں پہ کھلتے رنگ دیکھو
تمھارا نام مہندی سے لکھا ہے
نہیں آئی خبر کچھ دن سے کوئی
وہ شاید اب کسی کا ہوچکا ہے
کسی کے دل میں گھر کرنے کا شازی
محبت سب سے آساں راستہ ہے
شاعرہ شازیہ عالم شازی



