Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· August 2, 2024

کبھی بھی تجھ سے شرارت نہیں کروں گا میں
کہ ہو گئی تو وضاحت نہیں کروں گا میں

تمہاری زلفوں کا گاہک زمانہ ہے لیکن
سنو کہ ایسی تجارت نہیں کروں گا میں

پلٹ کے وار کیا تو وہ ہڑ بڑا گیا ہے
اسے لگا تھا کہ جرات نہیں کروں گا میں

اسی لئے تو وہ مسند سے گھورتا ہے مجھے
اسے پتہ ہے بغاوت نہیں کروں گا میں

کہ ڈھال پھینک کے تلوار اٹھائی ہے میں نے
سو اب کسی سے رعایت نہیں کروں گا میں

وہ جانتی ہے ہوس تشنگی کا زیور ہے
وہ جانتی ہے محبت نہیں کروں گا میں

ہزار رنج ملیں تیرے عشق میں مجھ کو
یہ بات لکھ لے شکایت نہیں کروں گا میں

حسین ابن علی درس گاہ ہیں میری
کسی یزید کی بیعت نہیں کروں گا میں

محبتوں کو تواتر سے موڑ دوں گا دوست
امانتوں میں خیانت نہیں کروں گا میں

دو چار شعر لکھوں گا میں ذائقے کے ساتھ
غزل میں آج طوالت نہیں کروں گا میں

عمیر شیری

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.