Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· August 8, 2024

مجھے دردِ دل کی دوا چاہیے تھی
فقط پیار کی اک نگہ چاہیے تھی

کھڑے ہو مِرے دُشمنوں کی صفوں میں
تمہیں مجھ سے کرنی وفا چاہیے تھی

رہا چاند تب تب چُھپا بادلوں میں
اندھیروں میں جب جب ضیا چاہیے تھی

خدا سے دعاٶں میں تم کو ہی مانگا
کوئی کب تمہارے سِوا چاہیے تھی

کِیے لال پِھرتے ہیں میرے لہو سے
ہتھیلی پہ اُن کو حنا چاہیے تھی

نہیں تھا تمہاری محبت کا طالب
مجھے بس تمہاری دعا چاہیے تھی

نِکلنا پڑا بزمِ یاراں سے ذُلفی
گُھٹن ہو رہی تھی , ہوا چاہیے تھی

شاعر ذوالفقار علی ذُلفی
( پنڈ دادنخان جہلم )

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.