تیرے لہجے میں بے باکی بہت ہے
مگر فطرت میں چالاکی بہت ہے
یہاں پاکیزگی کی بات مت کر
یہاں ذہنوں میں ناپاکی بہت ہے
تبسم تو لبوں پر ہے تمہارے
مگر آنکھوں میں نمناکی بہت ہے
عناصر تو کئی ہیں اس میں لیکن
ہمارا جسم یہ خاکی بہت ہے
مسیحا کہتے ہیں مہتابؔ جس کو
سنا ہے اس میں سفاکی بہت ہے
سید مہتاب حیدر صفی پوری




