ڈاکٹر طلعت شبیر
(اسلام آباد)
چھا گیا ہے جمال کا نقشہ
یوں کسی کے خیال کا نقشہ
جب جدائی بیان کرتے ہو
پھیلتا ہے ملال کا نقشہ
دکھ سناتے ہو کیا مہارت سے
کھینچتے ہو کمال کا نقشہ
اب بہاروں کے رنگ بکھرے ہیں
کچھ یہی ہے وصال کا نقشہ
آئنہ پوچھتا رہا مجھ سے
جھلملاتے سوال کا نقشہ
دُکھ تسلسل کے ساتھ آتے ہیں
پھر بھی ہے اندمال کا نقشہ
تم ہو گرد سفر سے ناواقف
تم نہیں ماہ و سال کا نقشہ




