Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· September 1, 2024

کتنے ناخوش تھے مرے یار نمو سے میرے
آخرش رنگ لیے ہاتھ لہو سے میرے

جانے کس ہاتھ سے شمشیر چلی گردن پر
ایک خوشبو سی روانہ ہے گلو سے میرے

میرے سینے سے مرا دل بھی نکل جائے اگر
کس طرح خود کو نکالو گے لہو سے میرے

اب تو بس چند دعائیں یا دوائیں ہیں دوست
کیسے رشتے تھے کبھی جام و سبو سے میرے

مجھ پہ چھائی ہوئی ہے موت سی خاموشی اب
کیوں مخاطب ہے کوئی آئنہ رو سے میرے

میں نے اک جنگ میں سیکھے تھے یہ ناز و انداز
مجھ کو اک بار محبت تھی عدو سے میرے

رو کے اک بار درِ یار پہ دستک دی تھی
دھل گئے سارے گنہ ایک وضو سے میرے

فہد قیصرانی

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.