ہم نے جیون کی کسی آس پہ مٹی ڈالی
پھول کو روند دیا ،گھاس پہ مٹی ڈالی
اب تُو خیموں میں کہاں پانی لیے پھرتا ہے
!!ہم نے اک دشت میں اس پیاس پہ مٹی ڈالی
میں سمجھتا تھا کوئی میرا بھی ہے دنیا میں
اور تو نے اسی احساس پہ مٹی ڈالی
بھر گئی جسم میں اس پھول بدن کی خوشبو
پھر اسی باس نے ہر یاس پہ مٹی ڈالی
پھیل جاتی تری دنیا میں مرے لفظ کی باس
تو نے کیا سوچ کے قرطاس پہ مٹی ڈالی
فہد قیصرانی




