وہ جتنی دور ہوتے جا رہے ہیں
مرے ارماں نکلتے جا رہے ہیں
جنھیں دل میں بٹھا رکھا تھا ہم نے
وہ اب دل سے اترتے جا رہے ہیں
یقیناً ہے جہاں بربادی اپنی
اسی رستے پہ چلتے جا رہے ہیں
مقابل تو ہیں وہ سورج کے یارو
مگر ہم کیوں پگھلتے جا رہے ہیں
مٹانے کی ہماری کوششیں ہیں
اندھیرے ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں
بلندی پر پہنچ تو وہ گئے ہیں
نظر سے سب کی گرتے جا رہے ہیں
وہ دیکھو چاند کے ہمراہ عاطفؔ
ستارے بھی نکلتے جا رہے ہیں
ارشاد عاطفؔ احمدآباد انڈیا



