اک درد ہے جو دل میں آکر ٹھہر گیا ہے
شاید کہ میرے دل میں اک شخص مر گیا ہے
مہتاب کھو گیا ہے ، سورج نہیں نکلتا
لے کے وہ میری شامیں، میری سحر گیا ہے
ترے ساتھ میری خوشیاں ترے سنگ زندگی تھی
تجھ سے بچھڑکے میرا ، ہر خواب بکھر گیا ہے
مجھے پوچھتی ہیں راہیں، ترے سنگ چلنے والا
تجھے چھوڑ کر اکیلا ، ظالم کدھر گیا
ہے
فرزانہ مر گیا جب ، تنہائی کا وہ مارا
کاندھا اسے پھر دینے ، سارا شہر گیا ہے
شاعرہ : فرزانہ صفدر ۔ ٹورنٹو



