آسماں یا کہکشاں میں کھو گئے
تم نجانے کس جہاں میں کھو گئے
کیا نگینے ضم ہوئے ہیں خاک میں
کتنے تارے آسماں میں کھو گئے
کون ہے حسنِ خطابت آشنا؟
لوگ سب کس کے بیاں میں کھو گئے
کارِ دنیا سے انھیں فرصت نہیں
ہم کہ ہیں ان کے گماں میں کھو گئے
کاروباری ذہن کی فتنہ گری
ہم فقط سود و زیاں میں کھو گئے
شاعرہ تمثیلہ لطیف




