اک ذرے کی پکار دور نہیں حیئ القیوم سے
گو ہے بکھرا و لا چار، کائنات میں بے معنی
جہاں نہ منزل کا نشاں نہ راستے کا تعین
سواے طاقت ترے الہ ہونے کا یقین
کے سنبھال کر ڈوبتے وجود کو
دے گا موقع کا ر ایما نی کا
راہ دکھلا اجالوں کے مسکن کی
بجھا کے عفریت و الم کے چراغ
سجا کے پیشانی کو اپنے سجدوں سے
نظارہ دکھا اپنے کن فیکون کا
عطا کر بلندی جنھیں جھٹلاے زمانہ
کہ رہے فاتح قدرت تری اے رحیم و ودود
را حت العین خا ن



