پہلے ہم چھوٹے تھے
تو اپنی ماں کو یاد کر کے روتے تھے
اب ہم۔ بڑے ہیں
اور اس بات سے خوفزدہ ہیں
کہ ہمارے بچے نہ روئیں
اصل میں ماں ہی وہ قیمت ہے
جسے ہم چکا نہیں سکتے
زندگی میں دوبارہ لا نہیں سکتے
خود سے موت کی آغوش میں جا نہیں سکتے
اور کبھی بھی دنیا کی ان رنگینیوں۔ میں
ماں۔ کے بغیر خود کو بہلا نہیں۔ سکتے
بس جی رہے ہیں
اور زندگی کی بے رخی پی رہے ہیں
ازقلم حنایاسمین



