مصحف جیسا ماں کا چہرہ لگتا ہے
بند عبا کا اک تعویذ سا لگتا ہے
جب بھی دم کرتی ہے مجھ پر جاتے وقت
اک اک جملہ آیت جیسا لگتا ہے
مشک کی مانند اسکے پیکر کی خوشبو
اسکا سایہ عکس خدا کا لگتا ہے
اس کی ممتا پربت کی صبحوں جیسی
آنچل اس کا چاند کا ہالہ لگتا ہے
ٹھنڈی اوس کا لمس ہے اسکے ہاتھوں میں
غارِ حرا سا اس کا کمرا لگتا ہے
شہد کی لذت ہے باتوں میں تمثیلہ
امرت جیسا اس کا لہجہ لگتا ہے
تمثیلہ لطیف




