(1) کچھ بھی نہیں اندر ہے
سیپ بھی ہے خالی
کہنے کو سمندر ہے
(2) کیا وصل کا منظر ہے
شہد ہے ہونٹوں پر
اور ہاتھ میں خنجر ہے
(3) سسرال کا پالا ہے
بخت ہے روشن پر
مانگے کا اجالا ہے
(4) ہونٹوں پر خوشامد ہے
یار ہے میکے میں
جاڑے کی بھی آمد ہے
(5) انداز بھی بڑھیا ہے
نظم بھی ہے اچھی
فنکار ہی گھٹیا ہے
(6) رستہ نہیں پاتا ہے
زلف کے جنگل میں
جو شخص بھی جاتا ہے
نور اقبال (جگتدل)
مغربی بنگال



