اُردو غزل
ولیوں کی صداؤں جیسا تھا
وہ انساں دعاؤں جیسا تھا
وہ تو ظرف تھا ایک سمندر کا
مرا دکھ دریاؤں جیسا تھا
جانا اس کا , خوشیاں روٹھی
وہ دھوپ میں چھاؤں جیسا تھا
دلکش دلکش اجلا اجلا
فرحت جاں ہواؤں جیسا تھا
غصہ اس کا بھی تھا میٹھا
وہ شافی دواؤں جیسا تھا
تیور ساجد شاہوں جیسے
غصہ بس۔ماؤں جیسا تھا
نواز ساجد نواز
حسوکے راوی
فیصل آباد



