Sunday, August 9, 2026
PAGES
CATEGORIES
Poetry - سُخن ریزے

نثر

· October 1, 2024

گلشن اختر میؤ
ننکانہ صاحب
ہائے چھودرن کا روپ دھارے
سر پر دوپٹہ لئے
کاندھے پر وقار کی چادر لئے
بابا کی پگڑی کا مان نبھاتی ہے
تمہیں کیا لگتا ہے
لوگوں کو نئی ہے مجھ سے محبت
لیکن میوات کی بیٹی ہر حال میں
اپنی روایت کا پاس نبھاتی ہے
وہ نئی رکھتی اپنوں سے بھی تعلق
لیکن جب بات آتی ہے میوات کی
سب کا ساتھ نبھاتی ہے
گھر میں. ہے سب ہی کچھ لیکن
خود کی ذات میں درویش کہلاتی ہے
محبت ہو نا جائے اس ڈر سے
وہ ابتدائی طور پر ہی جاں نظر کو
خدا حافظ کہہ کر مان نبھاتی ہے
مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہ
لیکن اس سے بھی 7 قدم دور نبھاتی ہے
یونہی تو نئی بنا جاتا خاندانی دوست
محبت, خواہشات کو قربان کر کے
اک خاندانی عورت ہی بابا کی پگڑی کا مان نبھاتی ہے
حسن پیکر مجسم کو خاک نشینوں سے چھپا کر
خاک زادی پھر خاندانی کہلاتی ہے
تو مجھے دیکھے تو خدا یاد آجائے گا گلشن
ایسے ہی تو نئی تاریخ میوات کی لکھی جاتی ہے

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.