Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

نمکین غزل

· January 16, 2023

ہو سبزی کھانے کو جی چاہتا ہے
کہ مرغا بنانے کو جی چاہتا ہے

وہ غصّے میں ہیں تم اُدھر منہ گُھما لو
اگر مسکرانے کو جی چاہتا ہے

جسے سن کے بیگم کو آتا ہے غصّہ
وہی گیت گانے کو جی چاہتا ہے

کئی دن سے ڈائٹ پہ ہوں مَیں سو ہر دن
کئی بار کھانے کو جی چاہتا ہے

حقیقت میں ہے درد جبڑوں میں تیرے
کہ غزلیں سنانے کو جی چاہتا ہے

کہا اس نے خود کو ہے جب سے مصیبت
مصیبت اٹھانے کو جی چاہتا ہے

نہیں ہے کوئی گھر میں سو گھر کی گھنٹی
مسلسل بجانے کو جی چاہتا ہے

گدھے سے محبت کا اظہار کر دو
مجھے گر جلانے کو جی چاہتا ہے

یہاں ایک چلّو سے بھی کم ہے پانی
“یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے”

یقیں ہے سنبھالیں گے راغبؔ وہ پھر سے
سو پھر لڑکھڑانے کو جی چاہتا ہے

افتخار راغبؔ
دوحہ قطر

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.