تحریر : مریم خان
سوات (چکدرہ)
بارہ ربیع الاول آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کے اوراق پر ایک بار پھر روشنی اتر آئی ہو۔ یہ محض ایک تاریخ نہیں، ایک احساس ہے؛ ایک ایسی یاد جس کے سامنے الفاظ ادب سے سر جھکا لیتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے انسان پیدا ہوئے، بادشاہ آئے، فاتح گزرے، فلسفیوں نے نظریے دیے اور دانشوروں نے کتابیں لکھیں، مگر ایک ایسی ہستی بھی دنیا میں تشریف لائی جس نے انسان کو صرف جینا نہیں سکھایا بلکہ انسان بننا سکھایا۔
تصور کیجیے، ایک ایسا زمانہ جب طاقت کو حق سمجھا جاتا تھا، کمزور کی آواز دب جاتی تھی، بیٹی کی پیدائش پر چہرے اتر جاتے تھے، غلام انسان نہیں سمجھے جاتے تھے اور قبیلہ انسان کی عزت کا پیمانہ تھا۔ ایسے ماحول میں ایک ایسی آواز بلند ہوئی جس نے انسان کو اس کی اصل پہچان دی اور بتایا کہ انسان کی عظمت اس کے نسب، رنگ، دولت یا طاقت میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہے۔ یہی محمد ﷺ تھے۔ آپ ﷺ کی آمد نے صرف عرب کا نقشہ نہیں بدلا، انسان کی تعریف بدل دی۔
کہانی شاید یہاں سے شروع نہیں ہوتی کہ ایک عظیم نبی دنیا میں تشریف لائے؛ اصل کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک انسان دوسرے انسان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے لگتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسان کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ اپنے دل میں دوسروں کے لیے کتنی جگہ رکھتا ہے۔
ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ احتراماً کھڑے ہوگئے۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا وہ انسان نہیں تھا؟” یہ مختصر سا واقعہ اپنے اندر ایک پوری کائنات رکھتا ہے۔ آج ہم مذاہب، زبانوں، قوموں، فرقوں، علاقوں اور نظریات کے نام پر ایک دوسرے سے فاصلے پیدا کر لیتے ہیں، مگر رحمتِ عالم ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اختلاف سے پہلے انسان کو دیکھا کرو۔
یہی تو بارہ ربیع الاول کا اصل پیغام ہے۔ ہم گھروں کو سجاتے ہیں، گلیاں روشن کرتے ہیں، درود و سلام پڑھتے ہیں، محافل منعقد کرتے ہیں اور خوبصورت نعتیں سنتے ہیں؛ یہ سب محبت کے اظہار کے خوبصورت طریقے ہیں۔ مگر شاید اس دن اپنے دل سے ایک سوال بھی پوچھنا چاہیے:
اگر محمد ﷺ آج ہمارے درمیان ہوتے تو ہمارے کردار میں انہیں اپنی تعلیمات کی کتنی جھلک نظر آتی؟
کیا ہمارے لہجے میں وہ نرمی ہے؟
کیا ہمارے معاملات میں دیانت ہے؟
کیا ہمارے گھر میں کمزور کے لیے جگہ ہے؟
کیا ہم کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں؟
کیا ہم کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں؟
کیا ہم کسی مخالف کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
کیا ہم عورت کو وہ عزت دیتے ہیں جس کی بنیاد رحمتِ نبوی ﷺ نے رکھی؟
اگر ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے ہمارا دل خاموش ہو جائے تو شاید ہمیں چراغ اپنے گھروں سے پہلے اپنے اندر جلانے کی ضرورت ہے۔ محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے کہے گئے چند خوبصورت الفاظ کا نام نہیں۔ محبت تو وہ ہے جو انسان کے رویے میں دکھائی دے۔ اگر ہم درود پڑھتے ہوئے کسی کا دل توڑ دیں، نعت سنتے ہوئے کسی غریب کو حقیر سمجھیں، میلاد مناتے ہوئے اپنے پڑوسی کے حقوق بھول جائیں، تو ہمیں اپنے جشن کے ساتھ اپنے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسا دین دیا جس میں عبادت کے ساتھ اخلاق ہے، طاقت کے ساتھ رحم ہے، اختیار کے ساتھ ذمہ داری ہے، اختلاف کے ساتھ برداشت ہے اور انسان کے ساتھ محبت ہے۔ اسی لیے بارہ ربیع الاول کا دن ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے تھے؛ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ان کی آمد کے بعد دنیا کو کیسا ہونا چاہیے تھا۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں یتیم خود کو تنہا نہ سمجھے، جہاں بیٹی بوجھ نہ ہو، جہاں غریب کی عزت دولت سے کم نہ ہو، جہاں پڑوسی کا حق یاد رکھا جائے، جہاں معافی کمزوری نہیں بلکہ عظمت سمجھی جائے اور جہاں انسان کو انسان ہونے کی وجہ سے عزت دی جائے۔
شاید اسی لیے بارہ ربیع الاول کی سب سے خوبصورت شمع وہ نہیں جو گلی کے باہر جل رہی ہو، بلکہ وہ ہے جو ہمارے کردار کے اندر جل اٹھے۔ آئیے اس بار جشنِ میلاد کے چراغ ضرور جلائیں، مگر ایک چراغ اپنے دل میں بھی روشن کریں۔ کسی ناراض شخص کو منا لیں، کسی ضرورت مند کی مدد کر دیں، کسی کا قرض معاف کر دیں، کسی کے دکھ میں شریک ہو جائیں، کسی کی عزتِ نفس بچا لیں، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دیں اور کسی ایسے شخص کو معاف کر دیں جسے معاف کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔
کیونکہ شاید یہی وہ لمحہ ہو جب ہماری محبتِ رسول ﷺ لفظوں سے نکل کر عمل بن جائے۔ اور پھر شاید بارہ ربیع الاول کی صبح صرف مدینے کی یاد میں روشن نہ ہو، ہمارے اپنے وجود میں بھی ایک مدینہ آباد ہو جائے؛ وہ مدینہ جہاں محبت ہو، رحم ہو، عدل ہو، اخلاق ہو اور ہر انسان کے لیے دل میں جگہ ہو۔
بارہ ربیع الاول مبارک—مگر اس سے بھی بڑھ کر، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے کردار کو مبارک ہو۔



