تاحیات
اس کا
وجود
عدم وجودی
کا
ماتم کرتا رہا
اور
جب اس نے
زندگی کے تپتے ہوۓ صحرا کو عبور کرلیا
تو
لوگ
ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر
اس کے نقشِ پا
کی
پوجا کرنے لگے
نور اقبال
جگتدل (مغربی بنگال)

تاحیات
اس کا
وجود
عدم وجودی
کا
ماتم کرتا رہا
اور
جب اس نے
زندگی کے تپتے ہوۓ صحرا کو عبور کرلیا
تو
لوگ
ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر
اس کے نقشِ پا
کی
پوجا کرنے لگے
نور اقبال
جگتدل (مغربی بنگال)