پھول ٹہنی سے گِر گیا آخر
وہ بھی دل سے اتر گیا آخر
پہلی چاہت ہی آخری نکلی
جی زمانے سے بھر گیا آخر
مجھ کو مجنوں کی کھوج لے ڈوبی
جی میں آیا جو کر گیا آخر
پہلے لگتا تھا سب محبت ہے
دل محبت سے ڈر گیا آخر
ہاں وہی دل جہاں پناہ گو تھے
کر چیوں میں بکھر گیا آخر
اس کے جانے سے جان جاتی تھی
سب نے دیکھا میں مر گیا آخر
ارشد ناسازؔ



