rki.news
تحریر : طارق محمود
میرج کنسلٹنٹ
ایکسپرٹ میرج بیورو انٹرنیشنل
قانون آج ہمارے حق میں لگتا ہے، مگر کل وہی ہمارے گھروں میں مشکلات اور بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی سے حالیہ منظور ہونے والا بل، جس پر آج کئی حلقے خوشی منا رہے ہیں، حقیقت میں ایک وقتی خوشی ہے۔ آج یہ قانون عورت کے حقوق اور تحفظ کے نام پر دل کو بھلا لگتا ہے، مگر پندرہ سال بعد وہی قانون ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جس کے وزن تلے خاندان نہ صرف دبیں گے بلکہ پورا سماج بھی خوف اور غیر یقینی میں مبتلا ہو جائے گا۔ آج جو حقائق نظرانداز کیے جا رہے ہیں، وہ کل ہر گھر میں پیچیدگی، فکریں اور قانونی الجھن کی شکل میں کھلیں گے۔
کل جب وہی خواتین اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادی کی تیاری کریں گی، تب اصل حقیقت سامنے آئے گی۔ نکاح جو آج آسان اور مقدس لگتا ہے، قانونی پیچیدگیوں، بھاری مالی ذمہ داریوں اور غیر ضروری پابندیوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔ والدین اور نوجوان دونوں قانون کے ہاتھوں پسیں گے، اور شادی ایک خوفناک، پیچیدہ اور مہنگا تجربہ بن جائے گا۔ نوجوان اس بوجھ کو برداشت کرنے کے بجائے فرار کے راستے تلاش کریں گے، اور وہ رشتے جو آج مضبوط اور محفوظ لگتے ہیں، غیر یقینی اور خوف کے سائے میں انجام پائیں گے۔
یہ صورت حال صرف خاندان تک محدود نہیں رہے گی۔ طلاقیں بڑھیں گی، خاندانی تقسیم عام ہوگی، بچوں کی تربیت متاثر ہوگی، اور نوجوان نسل ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے گی جہاں مستقل رشتے خطرے میں ہوں، ذمہ داری خوف کی علامت بن گئی ہو، اور خاندان کی جگہ قانونی پیچیدگیاں اور سماجی دباؤ لے لیں۔ یہ اثرات معاشرتی بنیادوں کو لرزائیں گے، سماجی ہم آہنگی بکھرے گی، اور آنے والی نسلیں غیر محفوظ، مایوس اور بے اعتماد ہوں گی۔
یہی وہ مسئلہ ہے جو مغربی معاشروں نے پہلے محسوس کیا: نوجوان شادی سے متنفر ہو گئے کیونکہ وہ قانونی اور معاشی بوجھ کے ساتھ پیدا شدہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے۔ آج پاکستان میں اسی ماڈل کی جھلک نظر آ رہی ہے: حلال رشتوں پر پابندیاں بڑھتی جا رہی ہیں، مگر ناجائز تعلقات عملی طور پر آزاد ہیں۔ قانون کی یہی ترجیح نوجوانوں اور خاندانوں کو مشکلات میں دھکیلتی ہے، اور سماج کی بنیادیں کمزور کرتی ہے۔
یہ سب کچھ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی روح سے جڑا ہوا ہے۔ یہ نظام انسان کو قدر کی نگاہ سے نہیں بلکہ سرمایہ کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔ قانون، جو انصاف، مساوات اور سماجی توازن کا آلہ ہونا چاہیے، سرمایہ دارانہ منطق کے تابع ہو کر رسک مینجمنٹ اور طاقتوروں کی حفاظت کا ہتھیار بن گیا ہے۔ نکاح اور خاندان کی حفاظت کی بجائے قانون نوجوانوں کے لیے خوف، والدین کے لیے بوجھ اور سماج کے لیے غیر یقینی حالات پیدا کرتا ہے۔
اسلام نے نکاح کو آسان، ذمہ داری کو قابلِ برداشت اور خاندان کو معاشرت کی بنیاد بنایا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ منطق اور غیر محتاط قانون سازی نے اس مقدس اصول کو دھچکا دیا ہے۔ نوجوان اس بوجھ سے بچنے کے لیے فرار اختیار کریں گے، اور وہی والدین جو آج قانون کی تعریف کر رہے ہیں، کل اپنے بچوں کے مسائل دیکھ کر ششدر رہ جائیں گے۔
مدبرانہ اور شائستہ سیاست کا تقاضا یہی ہے کہ قانون سازی وقتی خوشی، سیاسی دباؤ یا محض نعرے بازی کے تابع نہ ہو۔ قانون کے اثرات، سماجی توازن، خاندانی استحکام اور نسلوں کی تربیت کو مدنظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کیا جائے۔ اگر ہم نے یہ نہیں کیا، تو آج کی خوشی کل کی مشکل بن جائے گی، اور اندھیری نگری میں چراغ بدلتے رہیں گے، روشنی نہیں آئے گی۔
آج کے جشن کے چراغ ہمارے دل بہلا رہے ہیں، مگر کل ہماری نسلیں انہی قوانین کے بوجھ تلے دب کر جیئیں گی، خاندان ٹوٹیں گے، رشتے کمزور ہوں گے، اور بچے سوچیں گے: یہ تحفظ ہے یا مصیبت کا تماشہ؟
Leave a Reply