rki.news
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
وہ صرف دو ہی تھے، ایک لڑکا جس کی عمر دس سال کے لگ بھگ تھی، قد چھوٹا، رنگ صاف،سر جھکا ہوا، آنکھیں روی روی اور پپوٹے سوجے ہوے، وہ سر جھکاے یوں کھڑا تھا کہ مجھے اس پہ ترس سے زیادہ پیار آیا، وہ دراصل عمر کے اس دوراہے پہ تھا جہاں حقائق اپنی اصل صورت کے ساتھ انسانی دل و دماغ پہ اپنا آپ دکھانے پہ آ جاتے ہیں، گویا وہ اس اندوہناک بھید بھاو سے آگاہ تھا کہ اس کی ماں اس دنیا میں ان دونوں کو یکہ و تنہا چھوڑ کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا چکی ہے، اسی غم نے اس کے کندھے وقت سے پہلے جھکا دییے تھے اور وہ اپنے بچپنے میں ایک دم بزرگ دکھنے لگا تھا، ہاں اس کے ساتھ کھڑی ہوئی چار سالہ بچی سرخ فراک میں دو پونیوں کے ساتھ حالات و واقعات سے تقریباً نا آشنا، تھوڑی تھوڑی دیر بعد بھای کو کہتی، بھای چلو گھر چلتے ہیں. یہ لاعلمی، جہالت، کم فہمی بھی ناں، کتنی بڑی نعمت الہی ہوتی ہے، ہم لٹ کے برباد بھی ہو چکے ہوتے ہیں اور ہمیں کچھ خبر نہیں ہوتی، ان دونوں بچوں کی ماں جسے سب چھوٹے بڑے آپا ہی کہتے تھے، آ پاپچھلی رات ایک لمبے عرصے تک چھاتی کے کینسر میں مبتلا رہنے کے بعد فوت ہو چکی تھیں، یہ جوانی کی موت بھی ناں نرا روگ اور کڑی آزمائش ہوتی ہے،مرنے والے کی خواہشیں اور خواب اس کے ساتھ ہی دفن ہو جاتے ہیں اور مرنے والے کے لواحقین اگر دو چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو پھر مت پوچھیے، زمانہ ان کے حلق میں انگلی ڈال کر نوالہ ہی باہر نہیں نکالتا بلکہ محرومیوں کی ایک داستان حمزہ ان بچاروں کے چہروں اور تقدیروں پہ بڑے ہی ظالمانہ طریقے سے، غیر محسوس طریقے سے، بڑی خاموشی سے ثبت کر دیتا ہے،
لڑکی تو بہت ہی چھوٹی لال، پھولوں والے فراک میں دو پونیوں کے ساتھ بےفکری اور لاپرواہی اس کے چہرے سے واضح نظر آتی تھی مگر لڑکا سمجھدار تھا اسے سمجھ آ رہی تھی کہ ماں کی وفات کے ساتھ ساتھ اس کی نصیحت ہی نہیں وصیت بھی بدلی جا چکی تھی، آپا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، ماں بچپن میں فوت ہو چکی تھیں، والد چھوٹے بھای اور بھاوج پہ اتنا نثار کہ اس نے بھری جوانی میں ناگہانی موت کا شکار ہونے و؛ لی اکلوتی اولاد کی ساری وراثت بجاے بیٹی کے بچوں کے اپنے بھای کے بچوں میں، ریوڑیوں کی طرح بانٹ دی، آپا کے بچوں سے ماں تو چھوٹی سو چھوٹی، ساری خوشیاں اور وراثت بھی چھن گءی، ماں کی وصیت چھیننے والے ماں کی اپنے بیٹے کو کی گءی نصیحت نہ بدل سکے، بیٹا ما ں کی نصیحت کی روشنی میں پڑھ لکھ کر کمشنر ہوا اور پھر نہ صرف اس نے بے تحاشا زرعی رقبہ خریدا بلکہ اپنی چھینی ہوی جائیداد بھی
اپنے رشتہ داروں سےواپس لے لی. آپا کے وہ محروم بچے آپا کی نصیحت پہ عمل کر کے خوش ہیں، مسکراتے ہیں اور خوشحال ہیں.
پونم نورین
Punnam.naureenl@icloud.com
Leave a Reply