علی شاہد دلکش
اڑ گیا رنگ اس کے چہرے کا
جب عدو نے مری ہنسی دیکھی
تسطیر
اڑ گیا رنگ اس کے چہرے کا
خوف طاری تھا خامشی دیکھی
جسم پتھر کا ہو گیا جیسے
جب عدو نے مری ہنسی دیکھی
میم عین لاڈلہ
حوض اسٹریٹ جگتدل
اڑ گیا رنگ اس کے چہرے کا


علی شاہد دلکش
اڑ گیا رنگ اس کے چہرے کا
جب عدو نے مری ہنسی دیکھی
تسطیر
اڑ گیا رنگ اس کے چہرے کا
خوف طاری تھا خامشی دیکھی
جسم پتھر کا ہو گیا جیسے
جب عدو نے مری ہنسی دیکھی
میم عین لاڈلہ
حوض اسٹریٹ جگتدل