rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
دنیا بھر میں مختلف قسم کے تہوار منائے جاتے ہیں اور ان تہواروں کو منانےکامقصد یہ ہوتا ہے کہ دکھ بھری زندگی میں کچھ خوشگوار لمحات آجائیں۔زمانہ قدیم سے ہی انسان مختلف قسم کے تہوار مناتےآرہے ہیں۔منائےجانےوالے تہواروں میں ایک تہوار” بسنت”بھی کہلاتا ہے۔”بسنت”سنسکرت کا لفظ ہے،جس کے معنی بہارکے ہیں۔اسے بسنت پنچمی بھی کہا جاتا ہےکہ یہ ماگھ کی پانچ تاریخ کو منایا جاتا ہے،جو عموما فروری کے مہینے میں آتا ہے۔ہندوؤں کے مذہبی ویدوں کے مطابق بسنت کا دن،ان کی سرسوتی دیوی کا دن ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہندوؤں کے لیے ایک مقدس تہوار ہے،لیکن دیکھا گیا ہے کہ ہندوں کے علاوہ مسلمان سمیت دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہ تہوار مناتے ہیں۔اس دن لوگ نئے کپڑے پہنتے ہیں،پتنگیں اڑاتے ہیں اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اگر تہوار کو بطور تہوار منایا جائے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ تہوار انسانی جانوں کےضیاع کا سبب بھی بن جاتا ہے۔پتنگ اڑا کر اگر کوئی خوشی کے لمحات کشید کر لیےجائیں تو مضائقہ نہیں،لیکن یہ خوشی کسی کے لیے موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔پتنگ اڑانے کے لیے دھاگے کی بجائے تارکی ڈوراستعمال کی جاتی ہے اور اکثر وبیشتر یہ تار کسی موٹر سائیکل سوار کی گردن کاٹ دیتی ہے۔کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ کافی افراد ہلاک ہوئے۔خوشی مناتے وقت اگر دوسروں کی تکلیف کا احساس رکھا جائے تو وہ بہترین خوشی کہی جا سکتی ہے،لیکن کسی کی خوشی دوسرے کی زندگی چھین لے تو وہ بہت ہی خطرناک عمل ہے۔پتنگوں کی ڈوروں میں بعض اوقات دھاتی تار کے علاوہ شیشے سے لیپ شدہ ڈور بھی استعمال کی جاتی ہے۔بعض اوقات ٹوٹنے سے محفوظ رکھنے کے لیےمضبوط دھاگہ بطور ڈور استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بھی نقصان پہنچا دیتا ہے۔حکومت نے مذہبی ہم آہنگی اور خوشی منانے کے لیے چھ تاآٹھ فروری کو محفوظ بسنت منانے کی مشروط اجازت دی ہے۔کچھ شرائط بھی عائدکی گئی ہیں۔پتنگوں پر مقدس الفاظ،مذہبی نشان یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی ہوگی۔خلاف قانون پتنگوں کی تیاری،نقل و حمل،ذخیرہ اورفروخت کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔دفعہ 144 بھی نافذ ہوگی۔موسیقی بھی بسنت میں لازمی بجائی جاتی ہے۔حکومت نے ایسے گانے جو فحش نوعیت کے ہوں،ان پربھی پابندی عائد کر دی ہے۔اونچی آواز سے گانے بجانے بھی ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔
اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ یہ تہوار اگر اتنا نقصان دہ ہے تو منانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟تہوار تو خوشی منانے کا ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ اذیت کا سبب۔اب اگر یہ تہوار اذیت کا سبب بن رہا ہے تو اس پر پابندی لگا دینی چاہیے،لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ بسنت منانے کی اجازت دی جائے۔یہ درست ہے کہ کسی کی خوشی میں خلل ڈالنا بہتر نہیں،لیکن دوسری جانب ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں اور اگر ہلاکتوں سے بچ جائیں تو خطرناک قسم کے زخمی ہو جاتے ہیں۔ایسی خوشی جو دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہو،اس کا نہ منانا بہتر ہے۔اگر بہت ہی ضروری ہو تو حکومت کو چاہیے کہ سختی سے پتنگ اڑانے والوں کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی کو تکلیف نہ دیں۔سزا کا اعلان کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ پتنگوں کے لیے ڈور عام دھاگے کی بجائے دھاتی ڈور استعمال کی جاتی ہے یا ڈور کو مضبوط بنانے کے لیے ایسا کیمیکل لگا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے جو ٹوٹتا نہیں۔دھاتی تار یا کیمیکل لگا دھاگہ استعمال کرنے والے کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔گانوں پر جو پابندی لگائی گئی ہے،اگر وہ فحش ہیں یامعاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں تو ان پر صرف بسنت کے موقع پر پابندی نہیں لگانی چاہیے بلکہ ان کو مستقل طور پربین کر دینا چاہیے۔بہرحال مکمل طور پر بھی انٹرنیٹ کے دور میں ان گانوں کوبین لگانا ناممکن ہے۔
سیاسی گھٹن بھی بہت بڑھی ہوئی ہے،اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ سیاسی شخصیات کی تصاویر یا سیاسی نشانات والی پتنگیں اڑائی جا سکتی ہیں۔حکومت ان کے خلاف ایکشن نہ لے ورنہ حکومت کی بہت زیادہ بدنامی ہو جائے گی۔ایک یا دو دن پتنگوں کے ذریعے اگر سیاسی نشانات یا خیالات کا اظہار کر دیا جائے تو یہ حکومت کے لیے کم نقصان دہ ثابت ہوگا،لیکن اگر گرفتاریاں کی گئیں یا روکنے کی کوششیں کی گئیں تو یہ عمل حکومت کو زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔عوام الناس کو بھی چاہیے کہ اگر وہ بسنت کو بطور تہوار منانا چاہتے ہیں تو ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جو کسی دوسرے کے لیے دل آزاری کا سبب ہوں۔مذہبی اور اخلاقی دل آزاری بھی نہیں کرنی چاہیے،تاکہ ماحول بہتر رہے اور نفرتیں نہ بڑھیں۔جہاں”بسنت”کا تہوار اگر غیر مسلم منا رہے ہیں تو ان کو کھلے دل سے اجازت دی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے تاکہ مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے. ویسے کوئی بھی فرد اگر جائز طریقے سے خوشی منا رہا ہے تو اس کو منانے دینا چاہیے نہ کہ اس کو روکا جائے کہ وہ خوشیاں نہ منائے۔امید ہے یہ تہوار بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ چھوڑے بغیر گزر جائے گا۔وہ افراد جو پتنگیں بناتےہیں ایسی پتنگیں نہ بنائیں جس سے دوسروں کو موت ملے۔
Leave a Reply