قیامِ پاکستان کے لئے بھی ہر طرح کی قربانیاں عوام نے دیں، استحکامِ پاکستان کے لئے بھی عوام ہی پیش پیش ہیں اور معاشی نظام میں بہتری لانے کے لئے بھی عوام ہی متفکر ہیں. جبکہ ہمارے سیاستدانوں کو حکمرانی کے حصول کی فکر رہتی ہے لہذا ایک دوسرے پر مُلک کو لوٹنے کے الزامات لگانے کے باوجود حکمرانی کے حصول کی خاطر انہی کو گلے سے لگا کر ان کی مداح سرائی کرتے ہیں. حسب معمول ان کی نظریں بیرونی قرضوں کے حصول پر لگی رہتی ہیں جبکہ موجودہ قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لئے قومی خزانے میں بھی سکت نہیں. سرکردہ تاجر، سیاستدان اور اعلیٰ سرکاری افسران تو ہر لحاظ سے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں لیکن عوام روزی روٹی، بجلی، گیس، پٹرول اور اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں اضافے کے خوف سے سہمے رہتے ہیں. ماہِ رمضان کے مبارک مہینے میں حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ شفاف اور ایماندارانہ تحقیقات کر کے عوام کو بتائیں کہ بیرونی قرضوں کی رقُوم کہاں صَرف ہوئیں اور اس سے مُلک کی آمدن میں اضافہ کیوں نہیں ہوا. اگر ان قرضوں کی رقوم کے مصرف میں بے قاعدگی کا سُراغ ملے تو ذمہ داران کی شناخت سے عوام کو بھی آگاہ کریں اور سخت قانونی کاروائی کر کے حُب الوطنی کا ثبوت دیں تاکہ عوام کو اپنے اور پرائے کی پہچان ہو.
اپنی خرابیوں کو پسِ پُشت ڈال کر
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے
شہزادہ ریاض
Leave a Reply