rki.news
تمثیلہ لطیف
وہ آنکھیں پھاڑے ،دم سادھے دیکھے جا رہا تھا ۔بے حسی کی انتہانے پاکستان کے مسلمانوں کے دل ویران کر دیے تھے۔وہاں اب جنگلی جانوروں کا راج تھا۔انسان اب انسانوں سے گریزاں تھے۔نفسا نفسی کے عالم میں اسے پتا چلا کہ وہ جو خدا کو بھی نہیں مانتے تھے انہوں نے اپنے ہم وطنوں کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے۔اس وقت وہ گھر میں اکیلا بیٹھا تھا۔
سچن ٹنڈولکر نے پچاس لاکھ روپے دیے تھے۔دشمن ملک کے بزنس ٹائیکونز نے کروڑوں روپے عطیہ کر دیے تھے۔کھلاڑیوں ،گلوکاروں ؛ تاجروں ہر طرح کے امیر لوگوں نے کروڑوں روپے حکومت کو دیے تاکہ ان کے لوگوں کا علاج ہو سکے اور اس مہلک مرض کے خلاف جنگ وہ جیت سکیں۔اس کا دھیان اپنے ملک کے سیاستدانوں اور بڑے لوگوں کی طرف چلا گیا۔یہاں تو لوگوں سے چندہ وصول کیا جا رہا تھا۔یہاں تو الزام تراشی کی سیاست عروج پر تھی۔ایک دوسرے کے خلاف اس وائرس کو ملک میں لانے کا الزام دھرا جا رہا تھا۔وہ خاموشی کی ردا اوڑھے چپ چاپ ٹی وی سکرین پر نگاہیں جمائے بیٹھا جہاں اینکر اس وقت مباحثہ کے شرکا سے سوال پوچھ رہا تھا۔اس کے سامنے پانچ لوگ بیٹھے تھے۔ایک حکومتی پارٹی کا وزیر،دو اپوزیشن رہنما اور دو مذہبی جماعتوں کے رہنما۔
سوال تھا۔۔۔وہ جو غیر مسلم ہیں وہ جو خدا کو بھی نہیں مانتے انہوں نے اپنی عوام کے لیے اپنی طرف سے کروڑوں روپے دیے آپ لوگوں کی جماعت اور مذہب کا پرچار کرنے والوں نے کیا کیا؟
کچھ دیر خاموشی رہی پھر ایک سیاست دان گویا ہوا۔
اس ملک کے مندروں میں کروڑوں روپے اور سونا دان ہوتا ہے وہاں کے پنڈتوں نے تو ایک روپیہ تک نہ دیا۔
اینکر نے کہا۔پنڈتوں کو چھوڑیں باقی تو وہاں لوگوں نے کروڑوں دیے۔آپ جو ایک خدا کو مانتے ہیں جو اس نبی کے پیروکار ہیں جنھوں نے مانگنے پر بکریوں کا ریوڑ تک بخش دیا تھا آپ نے مصیبت کی اس گھڑی میں کیا عمل کیا؟
اینکر کے ساتھ ساتھ وہ بھی باری باری ان پانچوں کے چہرے دیکھ رہا تھا۔ایک مذہبی رہنما اور ایک سیاست دان جن کی باتوں کا وہ گرویدہ تھا وہاں موجود تھے۔ان سب کے چہروں پر چپ کا راج تھا۔بت ٹوٹتے جا رہے تھے۔ہر طرف گہری خاموشی تھی۔
Leave a Reply