احمد وکیل علیمی
دوردرشن کولکاتا
ہے اقرار ہر اک عہد تک خدا سے
زمانے سے لے کر لحد تک خدا سے
خدا ہی کو جب اپنا مالک بنایا
بچو شرک سے اس نے یہ بھی سکھایا
نبی اور ولی نے خدا سے ہی چاہا
جو چاہا اسی اک خدا سے ہی مانگا
گناہوں میں انسان شامل سبھی تھے
کبھی بت پرستی کے حامل سبھی تھے
وراثت می ملتی تھی یہ بت پرستی
سمجھتے تھے ہے زندگی ایک مستی
مدد مانگنے کی جو عادت پڑی ہے
پرانی روش پر جو طینت اڑی ہے
فقظ میری مانو خدا نے سکھایا
در غیر سے کچھ نہ چاہو بتایا
خدا کے سوا مانگتے ہی کسی سے
مگر اصل بندہ تو مانگے اسی سے
جو الحمد پڑھنے کا مطلب سمجھتے
کبھی شرک کے مرتکب ہی نہ ہوتے
شعور شریعت مچھے جب ہوا ہے
علیمی خدا کا ہی بندہ رہا ہے
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: سمجھتے جو مفہوم الحمد ہم سب, ID: 18550
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 18550 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply