Today ePaper
Rahbar e Kisan International

شترِ بے مُہار سوشل میڈیا

Articles , Snippets , / Friday, April 4th, 2025

rki.news

عامرمُعانؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر پیمرا سوشل میڈیا قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیوں نہیں کرواتا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر عام آدمی کے ذہن میں ضرور جنم لیتا ہے۔ جب سائبر کرائم کے قوانین موجود ہیں، اور اُن قوانین کے تحت سب اصول و ضوابط طے کر دئیے گئے ہیں کہ کس طرح کا مواد سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کیا جا سکتا ہے ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا شترِ بے مُہار کی طرح وہ تمام حدود و قیود روندتا ہوا آگے سے آگے ہی بڑھتا جا رہا ۔ اِس پر اگر ابھی روک نہ لگی تو پھر یہ ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر لے گا جو جہاں سے بھی گزرتا ہے اپنے پیچھے صرف اور صرف تباہی کے نشانات ہی چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ غور کیجئے پہلے اِس سوشل میڈیا نے ہماری سیاسی اقدار کو تختِ مشق بنایا اور ملکی سیاست میں سے ادب و آداب اور شائستگی کا مکمل خاتمہ کر کے گالم گلوچ اور بد تہذیبی کا ایسا کلچر دیا کہ سب کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر توبہ کرنے پر مجبور ہو گئے ، پھر اِس سوشل میڈیائی طوفان نے اپنا رخ سماجی و معاشرتی محلات گرانے کی طرف کر لیا، اور ان کا وہ حال کیا کہ گھر گھر میں اخلاقیات کا جنازہ نکال کر رکھ دیا، ہر گھر سے ناچ گانے کی آوازیں سن کر سب یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک اسلامی ملک میں اسلامی قوانین کے تحت ہی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ابھی اس زلزلے کے اثرات سے سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ اِس طوفان نے معاشی محل مسمار کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے نوجوان نسل کے ہاتھوں سے تمام ہنر چھین کر انہیں موبائل تھما کر صرف سوشل میڈیا سے پیسے کمانے کی لت میں مبتلاء کرنا شروع کر دیا ایک ایسی لت جو نشہ سے زیادہ خطرناک ہے، چند افراد کی کامیابی دکھا کر لاکھوں نوجوانوں کو ایک ایسی اندھی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے کہ جس کے ننانوے کے پھیر سے زندگی بھر نکلنا ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ تمام محلات گرانے کے بعد اب اس سوشل میڈیائی طوفان کا اگلا نشانہ تاک کر مذہب پر لگایا جا رہا ہے ۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں ایسے سوالات اور اشکالات ڈالی جا رہی ہیں جو سراسر گمراہ کن ہیں، لیکن کسی جید عالم سے استفادہ کے بجائے جب سوشل میڈیا ہی کو عالم سمجھ لیا جائے تو بہکنےکے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ان تمام چیلنجز سے بچانے کا حلف لینے والا ادارہ پیمرا آخر کیوں خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے؟ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے۔ کہا جاتا ہے جب معاشرے سے سزا کا خوف ختم اور سزا پر عملدرآمد کا تصور مٹ جاتا ہے تو اس معاشرے میں نفسا نفسی اور انارکی کا دور شروع ہو جاتا ہے، جو اب ہمیں ارد گرد نظر آنے بھی لگا ہے ۔ اس سلسلے میں ہر ہر ادارے پر جو جو فرائض عائد ہوتے ہیں اُس میں خوب کوتاہیاں نظر آ رہی ہیں، جس سے معاشرے کا بگاڑ بڑھتا جا رہا ہے اور ایک مادر پدر آزاد معاشرے کی صورت واضح ہوتی جا رہی ہے ، جہاں رشتوں کی نہیں، اہمیت صرف مال و دولت کی ہے اور اس کے حصول کے لئے جائز و ناجائز ہر حد پار کرنے سے کوئی گریز نہیں کیا جا رہا۔ پیمرا تو اُس کُند چھری کی طرح نظر آتا ہے جس سے ڈرایا تو جا سکتا ہے، لیکن کسی کو بُرے قدم سے روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسری بڑی ذمہ داری علمائے حق کی تھی، لیکن جس طرح کی توانا آواز کی ضرورت ہے وہ آواز کہیں سے سنائی نہیں دے رہی ۔ بہت سے علماء کے بھیس میں دنیا پرست اس موقع پر سوشل میڈیا کے طرف دار نظر آ رہے ہیں ۔ اُن کا مطمع نظر دین نہیں دنیا کی دولت ہے اس سے ایک عام آدمی ایک ایسے جال میں پھنسا نظر آتا ہے جسے سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ اس جال سے نکلنے کا راستہ اُسے کون دکھائے گا ۔ جس طرح سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کئی سالوں سے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر نوجوان نسل کے ذہن سے احترام رمضان کھرچ کھرچ کر نکالا جا رہا ہے اس پر بھی حکومت اور علمائے حق کی خاموشی ایک عام پاکستانی کو منجدھار میں تنہا چھوڑنے کے مترادف نظر آتی ہے ۔ اب بات بیانات سے آگے نکل چکی ہے، علمائے حق پر یہ فرض ہے کہ وہ حکومت پر زور دے کر اس سوشل میڈیائی طوفان پر بند باندھنے کی کوشش کرے وگرنہ مزید تاخیر کہیں اُس مقام پر نہ لے جائے جہاں اللہ کی پکڑ سب سے پہلے ان کی ہی ہو، کیونکہ خاموشی اختیار کرنا بھی ظالم کی مدد کرنا اور برائی کو بڑھاوا دینے کے ہی مترادف ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے پیمرا اپنے قوانین پر سختی سے عمل کروائے اور یوں سزائیں ہوتی ہوئیں معاشرے میں نظر آئیں کہ دوسروں کو سبق حاصل ہو اور معاشرتی بے راہ روی کے اس طوفان پر بند باندھا جا سکے ،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ عدالت قانون کی چھڑی استعمال نہ بھی کرے تب بھی اس کا اتنا خوف قائم رہنا چاہئے کہ مجرم قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ڈریں ، لہٰذا پیمرا بھی اپنی ڈیجیٹل چھڑی کا اتنا خوف قائم کروائے کہ یہ ڈیجیٹل شیطان اُس کے خوف سے ہی انسان بنے رہیں۔
~ فحاشی کا جو اک سیلاب ہے روکو تدبر سے
ابھی بھی وقت ہے پھر ہاتھ ملنے سے ملے گا کیا


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International