تحریر: ندا شکیل تخت بھائى
ایک زمانہ تھا جب نوجوانوں کے عادات آج کل کے دور سے کافی مختلف تھے۔نوجوان پیدل سکول ،کالج،یونیورسٹی جاتے تھے ۔گھر آکر کپڑے بدل کر نماز پڑھتے تھے،کھانا کھاتے تھے کچھ آرام کرتے اور شام کو واک کرتے یا کھیل میں حصہ لیکر خود کو پریش کرتے ، شام کو بروقت گھر لوٹتے نماز پڑھتے ہوم ورکر کرکے بروقت سو جاتے اور پھر اسی طرح صبح سویرے اٹھتے نماز پڑھتے تلاوت کرتے اور سکول ،کالج یونیورسٹی جانے کی تیاری کرتے تھے اور یہی عموماً یہی روٹین یوتا تھا ۔
مگر چند سال ہو گئے نوجوان حضرات زندگی کی جنگ ہاتے اور زندگی اور موت کی جنگ لڑتے نظر ارہے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں کوئی پتہ نہیں ۔
البتہ نوجوان حضرات نشے کرنے اور ڈپریشن کی وجہ سے اپنی صحت کھو بیٹھتے ہیں اگر دیکھا جاۓ تو جو عمر رسیدہ بزرگ لوگ ہیں وہ دیسی تازہ خوراک اور کھیتی باڑی کرتے تھے اس وجہ سے وہ مظبوط اور صحت مند تھے اور ہیں اس کے برعکس موجودہ نسل کھیتی باڑی بھی نہیں کرتے اور نہ کوئی ایسے کام کرتے ہیں جس سے جسم مظبوط ہو نہ گھروں میں پہلے والے خالص دیسی خوراک ملتا ہے جن سے طاقت ملتی ہو ساری چیز بازار سے کھا کر صبح اٹھ کر آفس یا یونیورسٹی جاکر دن میں پانچ چھ سیگریٹ پی لیتے ہیں اور شام کو اکر بازاری کھانا کھا کر انٹر نیٹ میں بیٹھ کر زندگی گزرتے ہیں نہ اپنی ارد گرد کی ماحول سے خبر رکھتے ہیں نہ کوئی ایسے اکٹیوٹی کرتے نظر اتے ہیں جن سے جسم کو ایک صحت یابی مل سکے اور باز نوجوان تعلیمی ڈپریشن کا شکار نظر اتے ہیں میں کسی ایک علاقے یا کسی ایک قوم کو نہیں Over All ملک تمام بچوں کے متلق بتا رہا ہوں تعلیمی میدان میں ایک نوجوان جب تعلیم کا 16 سالہ ڈگری لیکر نکلتا ہے تو یہ صرف ایک ڈگری نہیں ہوتا ایک خواب ہوتا ہے اس کے ارمان ہوتے ہیں اس کے ساتھ جوڑے ماں باپ بہن بھائیوں کا ایک خواب جوڑا ہوتا ہے جب آپ کی آنکھوں سے خواب چھین کر کوئی آپ کی خواب کسی کو کو حقیقت کے کے دے دیں تو بندہ ڈپریشن نہیں تو کیا ہوگا اس لے ان وجوہات کی وجہ سے آج کل نوجوان نسل کھبی دل کا دورہ پڑنے پر کھبی کنسیر تو کھبی خودکشی کر کے خود کو تباہ کرتے ہیں اس کا واحد حال یہ ہی ہے کے اپنی روز مرہ زندگی میں تبدیلی لانی ہو گی نماز پڑ کر صبح اٹھ کر واک اور فروٹ وغیرہ کھا کر اپنی صحت کو بچایا جاسکتا ہے ورنہ اس قسم کی واقعیات ہوتے رہیں گے
نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل ہوتے ہیں اُنہی پر ہر قوم کی ترقی وخوشحالی منحصر ہوتی ہیں اگر آپ کسی قوم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو اُن کے نوجوان میں بے شرمی ، بے حیائی پھیلا دے اور اُنہیں آگاہ نہ ہونے دے اگر کوئی قوم اپنی ترقی چاہتا دنیا میں آگے بڑھنا چاہتا ہیں تو اُنہیں چاہیں کے اپنے نوجوان نسل پر توجہ دے اُن کی اصلاح کرے مجھے سلطان صلاح الدین ایوبی کا وہ مشہور قول یاد آیا کہ جس قوم کے نوجوان بیدار ہو جائیں اُس قوم کوکوئی شکست نہیں دے سکتا ! “یہ قول میرے ذہن میں نقش کر گیا ہے اور اس کے ساتھ علامہ اقبال کا تاریخی واقعہ یاد جاتا ہے کہ علامہ اقبال یورپ کے سیر کو گئے تھے شام کو پارک آئے سارے بچے پارک میں کھیل کو د رہے ہیں لیکن ایک بچہ بینج پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا ہیں علامہ اقبال گئے اُن کے ساتھ بیٹے اور اُن سے بات کرنی شروع کی تو اُس بچے سے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں کھیل رہے ہیں باقی بچوں کے ساتھ تو اُس بچے نے جو جواب دیا اُس نے علامہ اقبال کو حیران کر دیا کہ میں اِس لیے پڑھ رہا ہوں کہ میری قوم دنیا میں بہت کم رہ گئی ہیں اگر میں پڑھوں گا نہیں تو وہ ختم ہو جائے گی جب اقبال نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو جانتے ہو وہ کو ن تھا وہ ایک یہودی بچہ تھا تب اقبال نہ کہا “افسوس میرے قوم کے بچوں میں تو شاہین تم میں ڈھونڈ رہا تھا لیکن شاہین تو یہودیوں کے ہاں بل رہے ہیں ” دراصل میرا مقصد یہی نقطہ اُجاگر کرنا ہیں کہ جس نوجوانوں کو اقبال نے شاہین کہا ہیں کیا وہ واقعی شاہین ہے کہ نہیں ۔ دراصل وہ شاہین تو ہیں لیکن صرف اور صرف سوشل میڈیا پر اُن کی اپنے ملک کی طرف ذمہ داری اور صحبت صرف اور صرف شوشل میڈیا تک محدود ہیں اُن کی آگاہی اور شعور کا اندازہ صرف اور صرف شوشل میڈیا سے لگا یا جا سکتا ہیں اُن کی اپنے ملک کی طرف خدمت بی اتنی ہیں کہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کے وہ سیاسی لیڈروں جرنیلوں ، ججوں کو گالیاں دینا ہیں میں یہ نہیں کہتی کہ سوشل میڈیا غلط ہیں میں کہتی ہوں اِس کا استعمال غلط ہیں آپ کتابوں سے دُور ہو گئے ہیں آپ میں لا علمی پیدا ہو گئی ہیں آپ کی علم بس اتنی ہیں کہ آپ کسی سوشل میڈیا فورم پر بیٹھ کے ایک بوسٹ دیکھ لیتے ہیں اور بغیر پھر آپ تبصر ے کرنے لگتے ہیں کو کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ تو پہلے خود کو(Systemاگر آپ کو اپنے ملک سے صحبت ہیں اور واقعی اپنے ملک کے سسٹم (
ہم جیسے لوگوں سے ہی بنتا ہے اگر ہم نوجوان نسل خود کی اصلاح (Systemٹھیک کرے خود پر توجہ دے کیونکہ (
کریں گے خود میں آگاہی لائے گے ہمیں سوشل میڈیا سے ہٹ کے علم ہوگا کتابوں سے دوستی کرے گے تو یقین مانے روحانی تبدیلی آئے گی ویسے بھی ہمارے سوشل میڈیا ہے ایک بھی چیز صحیح نہیں ہیں۔(Spiritualہم میں ایک (
کے بجائےViral Videosاور Dances اگر ہم سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرے تب شاید ٹھیک ہو گا اگر ہم
کرے لوگوں کو اُن کے بارے میں بتائے شاید ہم Promoteکو Heroes سوشل میڈیا ہے اپنے اسلامی
ہواور ہم ہمارے ملک میں تبدیلی آئے کیونکہ گر نوجوان بیدا ر ہوگئے تو وہ قوم ترقی کرے گی۔ Motivate
Because we are the future of Pakistan.
لحاظ اپنی اصلاح کرے اور فضول چیزوں سے دُور رہے اور دِل سے اپنے وطن کی ترقی کے بارے میں سوچے۔
Leave a Reply