چاند کو ہم نے دیکھا اندر پانی میں
دیکھ رہا تھا وہ بھی ہنس کر پانی میں
چیخ اٹھا ہے کوئی اندر پانی میں
جا کے گرا ہے کس کا خنجر پانی میں
کیا میں بتاؤں کیا تھا منظر پانی میں
ڈوب رہا تھا کوئی ساگر پانی میں
ساتھ ہمیں بھی ڈوبی لے کر پانی میں
دیکھی جو ہم نے قسمت بو کر پانی میں
چور گھمنڈ ہو جائے گا سورج تیرا
اترے گا تو بھی جس دن اندر پانی میں
اس کو جدا نا کر پایا ہے کوئی بھی
پھینک کے دیکھے ہم نے پتھر پانی میں
نیند نہیں آتی ہے جن کو بستر پر
دیکھ رہے ہیں وہ بھی سو کر پانی میں
لوگ یہاں پر اتنے احمق ہیں عاطفؔ
بیر مگر سے کرتے رہ کر پانی میں
ارشاد عاطفؔ احمدآباد انڈیا
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 14915
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 14915 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 14915
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply