شاعرہ ماریہ اعجاز اٹک
ہمیں بے حد ستاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
ہمیں تنہا رلاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
سبھی آرام سے سوتے ہیں اپنے اپنے بستر پر
ہمیں شب بھر جگاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
دلاتی یاد ہیں ہم کو وہ ماضی کے حسیں لمحے
ہمیں غم سے لڑاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
اگر مدہوشی چھا جائے کھلی آنکھوں سے یہ ہم کو
کئی سپنے دکھاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
کبھی شب کو ہو دستک ہم سمجھتے ہیں تم آئے ہو
ہمیں پاگل بناتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
اسے کوئی یہ ماریہ کہے ملنے چلے آؤ
وگرنہ یہ چِڑاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 15848
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 15848 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 15848
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply