Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Tuesday, December 31st, 2024

اُن سے کہہ دو کہ نیا اک ستم ایجاد کریں
تاکہ شدت سے ہمیں اور بھی برباد کریں

نام آئے گا ہمارا بھی کہیں یاد اُنہیں
وہ ، جو ایام جوانی کے ذرا یاد کریں

ہم کو اب مہر و محبت سے کوئی کام نہیں
اِن پرندوں سے کہو دشت کو آباد کریں

یہ جو محرومِ تمنا ہیں ستائے ہوئے لوگ
ایسے لوگوں کی دل و جان سے امداد کریں

تُو نے جب ہم سے تعلق ہی نہ رکھنا ہے کوئی
پھر ترے سامنے ہم کس لئے فریاد کریں

اپنی آنکھوں سے مجھے خاک میں رُلتا دیکھیں
اپنے ہاتھوں سے مری چاہ کو برباد کریں

پھر کہاں جا کے بسیں گے ابھی سوچا ہی نہیں
ہم کو تمثیلہ ، قفس سے تو وہ آزاد کریں

شاعرہ تمثیلہ لطیف

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: غزل, ID: 18375

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post
Categories
Adwp_the_query
8,21,3post_id: 18375
is_singular: 1


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International