بد نما لگنے لگیں اچھائیاں
قصہِ ماضی ہیں اب سچائیاں
نقش ہیں اب بھی سماعت پر مری
خندہ زن، ماتم کناں شہنائیاں
ہو کا عالم خواب کی وادی میں ہے
ہائے ! تنہا ہو گئیں تنہائیاں
آزماتی ہیں گہر یابی کا فن
جھیل سی آنکھوں کی یہ گہرائیاں
ہجر رت کی بے کلی بے کیف دن
آگ برساتی ہوئی پروائیاں
نرم دھوپ ،آنگن میں جھولے، شوخ رت
بال پن ، کم عمریاں ، برنائیاں
لیجئے ! مقطع غزل کا عرض ہے
ہو چکیں سب قافیہ پیمائیاں
تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 18932
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 18932 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply