اپنے ماضی کے غم بُھلا بیٹھے
تم جو دل میں ہمارے آ بیٹھے
پھل نظر آئے ، ڈالی ڈالی پر
جب پرندے شجر پہ آ بیٹھے
عمر بھر ہاتھ اب نہ چھوڑیں گے
آپ کی ہم ، قسم جو کھا بیٹھے
اوڑھ کر ہم دھنک کے رنگوں کو
اپنے سر پر ردا سجا بیٹھے
مسکراتا ہے اس میں عکس اُن کا
جب بھی ہم ، لے کے آئنہ بیٹھے
ڈوب جانے کے خوف سے کچھ لوگ
نا خدا کو ، خدا بنا بیٹھے
تم پہ کس کو یقیں ہو تمثیلہ
کیوں قسم بے وفا کی کھا بیٹھے !
تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 19304
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 19304 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply