شہر بھی لگنے لگا ہے بن
وحشت ہے یا پاگل پن
۔
دل میرا دکھ کی درگاہ
یاد کا ہے اس میں مدفن
۔
مِلنا مِلانا کھیل سا تھا
آڑے آ گئی تھی چلمن
۔
تیرا ہی رستہ دیکھتے ہیں
گھر کی اداسی اور درپن
۔
اُس کو چھوڑ کے میں نہ گیا
یوں تو ہوتی رہی اَن بن
۔
دوست کو میں سمجھا اُس وقت
سانپ نے جب پھیلایا پھن
۔
تیرا وصل نہ پھر بھی مِلا
میں نے لٹایا تن، من ، دھن
۔
چہرہ چہرہ تیرا لگے
حد سے بڑھ گیا پاگل پن
۔
جھوٹی تعریفیں اشعر
سیکھ لے، تُو دنیا کا چلن
اشعر عالم عماد
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 19837
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 19837 is_singular: 1 |
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 19 | post_id: 19837 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply