سب دکھاوا ہے اور ہے مایا
تیری پلٹے گی ایک دن کایا
پیسہ آیا ، مگر تجھے افسوس
بات کرنے کا ڈھنگ کب آیا؟
کیوں نہ تجھ پر عذاب نازل ہو
زندگی بھر حرام ہی کھایا
حشر میں یہ حساب دینا ہے
کتنا کھویا تھا اور کیا پایا
بنتِ حوا کا شکوہ جائز ہے
ابنِ آدم نے اس کو تڑپایا
صبر کا جام پی لیا میں نے
قہر پر قہر تو نے کیوں ڈھایا
سوز تمثیلہ اس قدر کیوں ہے؟
شعلہ کیسا ہے تو نے بھڑکایا
شاعرہ تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 19841
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 19841 is_singular: 1 |
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 19 | post_id: 19841 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply