Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Friday, January 24th, 2025

یزید ! قصد نہ کر مجھ کو آزمانے کا
رگوں میں خون ہےحسنینؑ کے گھرانے کا

قسم خدا کی پرندے بھی ہم سے بہتر ہیں
کبھی کریں نہ ذخیرہ جو آب و دانے کا

جو میرے خواب کی تعبیر تھا سراب ہوا
یہی ہے حاصلِ مطلب ، مرے فسانے کا

ہمارے نین نشیلے ، کی بات کرتے ہو
تو کیا پتہ نہ تھا پہلے ، شراب خانے کا

کسی کے ساتھ کے ہم ایسے ہوگئے عادی
تھا کرب ناک تصور بھی دور جانے کا

مہک رہے ہیں درو بام اسکی باتوں سے
بلند بخت ہے میرے غریب خانے کا

وہ میرے صحن کے گوشے میں ہی ہے تمثیلہ
ہوائیں مجھ کو پتہ دے گئیں ٹھکانے کا

شاعرہ تمثیلہ لطیف

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: غزل, ID: 19907

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 19907
is_singular: 1
Categories
Adwp_the_query
19post_id: 19907
is_singular: 1


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International