عکس سارے آئینوں میں بٹ گئے
خواب میرے کرچیوں میں بٹ گئے
جو بنائے مَیں نے خوابوں کے محل
اُس کے حصے دوستوں میں بٹ گئے
حق کا رستہ چھوڑ کر پایا ہے کیا؟
نُور سارے ظُلمتوں میں بٹ گئے
ہوگئے بے مول جو انمول تھے
اونی پونی قیمتوں میں بٹ گئے
زر کے پیچھے بھاگنے سے کیا ہُوا؟
چین کھویا آفتوں میں بٹ گئے
زِندگانی کم ہے چاہت کے لیے
لوگ کیسے نفرتوں میں بٹ گئے
دِہر میں خانمؔ خُدا ہی آسرا
میرے اپنے دُشمنوں میں بٹ گئے
فریدہ خانم ، لاہور ، پاکستان ۔
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 20221
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 20221 is_singular: 1 |
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 19 | post_id: 20221 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply