عشق کے پیار کے محبت کے
ہم ہیں قائل اسی طریقت کے
چند باتوں پہ ہی نہیں موقوف
اور بھی ڈھنگ ہیں عبادت کے
کوئی بھی بے وفا نہیں ہوتا
سب وفا دار ہیں محبت کے
پھول پودے پرند موج ِ ہوا
سلسلے ہیں تیری ہی قدرت کے
بھوک افلاس قرض بے کاری
کارنامے ہیں سب حکومت کے
ہیں جو روئے زمیں پہ ایجادات
کشف کے ہیں نہ یہ کرامت کے
رفتہ رفتہ کھلیں گے سب صاحؔب
تم پہ سارے جہان حیرت کے
زین افغان صاحؔب
کراچی پاکستان
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 20227
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 20227 is_singular: 1 |
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 19 | post_id: 20227 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply