Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Friday, August 29th, 2025

rki.news

یونہی بے یقیں، یونہی بے نشاں، مری آدھی عمر گزر گئی
‎کہیں ہو نہ جاؤں میں رائیگاں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎کبھی سائبان نہ تھا بہم، کبھی کہکشاں تھی قدم قدم
‎کبھی بے مکاں کبھی لا مکاں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎ترے وصل کی جو امید ہے، وہ قریب ہے کہ بعید ہے
‎مجھے کچھ خبر تو ہو جانِ جاں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎کبھی مجھ کو فکرِ معاش ہے، کبھی آپ اپنی تلاش ہے
‎کوئی گُر بتا مرے نقطہ داں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎کوئی طعنہ زن مری ذات پر، کوئی خندہ زن کسی بات پر
‎پئے دلنوازیء دوستاں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎اُسے پا لیا اُسے کھو دیا، کبھی ہنس لیا کبھی رو دیا
‎بڑی مختصر سی یہ داستاں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎ابھی وقت کچھ مرے پاس ہے، یہ خبر نہیں ہے قیاس ہے
‎کوئی کر گلہ مرے نقطہ داں ، مری آدھی عمر گزر گئی

‎کہاں کائنات میں گھر کروں، میں یہ سوچ لوں تو سفر کروں
‎اسی سوچ میں تھا کہ ناگہاں، میری آدھی عمر گزر گئی۔

عرفان ستار


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International