rki.news
ہر نفس تیرگی میں رہتے ہو
جانے کس بن گلی میں رہتے ہو
شام ہوتے ہی لوٹ جاؤ گے
تم عجب بے کلی میں رہتے ہو
نام اُلفت کا تو سُنا ہو گا
یا فقط رنج ہی میں رہتے ہو ؟
بعد مدت کے دل نے کی خواہش
تم میری ہر خوشی میں رہتے ہو
جو میسر ہو ایک عمر کے بعد
چین کی اُس گھڑی میں رہتے ہو
میرے ہونٹوں کی مُسکراہٹ میں
گیت کی نغمگی میں رہتے ہو
کتنے اچھے تھے سارے خواب مرے
تم بھی کیا خواب ہی میں رہتے ہو ؟
کاش! یہ کہہ سکوں میں گل سب کو
تم میری زندگی میں رہتے ہو
ُسباس گُل
رحیم یار خان
Thanks 👍