وہ جتنی دور ہوتے جا رہے ہیں
مرے ارماں نکلتے جا رہے ہیں
جنھیں دل میں بٹھا رکھا تھا ہم نے
وہ اب دل سے اترتے جا رہے ہیں
یقیناً ہے جہاں بربادی اپنی
اسی رستے پہ چلتے جا رہے ہیں
مقابل تو ہیں وہ سورج کے یارو
مگر ہم کیوں پگھلتے جا رہے ہیں
مٹانے کی ہماری کوششیں ہیں
اندھیرے ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں
بلندی پر پہنچ تو وہ گئے ہیں
نظر سے سب کی گرتے جا رہے ہیں
وہ دیکھو چاند کے ہمراہ عاطفؔ
ستارے بھی نکلتے جا رہے ہیں
ارشاد عاطفؔ احمدآباد انڈیا
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 11687
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 11687 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 11687
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply