rki.news
تحریر۔فخرالزمان سرحدی ہری پور
زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ جدیدسائنس و ٹیکنالوجی نے دنیا کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، مگر اسی رفتار نے انسان کے فکری، اخلاقی اور روحانی وجود کو کمزور بھی کر دیا ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہماری نسلِ نو کس سمت جا رہی ہے؟ اگر یہی بے سمتی، بے راہ روی اور فکری انتشار جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری آنے والی نسلیں جسمانی طور پر تو زندہ ہوں گی مگر فکری و روحانی اعتبار سے مردہ۔بقول اقبالؒ: نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
نسلِ نو کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ یہی نسل مستقبل کے معمار، راہنما، سائنس دان، ادیب، مفکر،شاعر٬کالم نگار اور محافظ بنتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج یہی نسل بے شمار خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، بے مقصد تفریح، فحاشی، نشہ آور اشیاء، والدین سے دوری، تعلیمی بے رغبتی اور اخلاقی انحطاط نے نوجوانوں کی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ ہم فخر سے کہتے ہیں کہ دنیا ڈیجیٹل ہو گئی ہے، مگر افسوس کہ ہمارے نوجوان ڈیجیٹل غلام بنتے جا رہے ہیں۔ مقام شوق کے زمزمے ماند پڑ رہے ہیں۔افکار تازہ سے محبت سرد پڑتی جا رہی ہے۔
آج کا نوجوان کتاب سے دور اور اسکرین سے قریب ہے۔ پہلے بچے ماں کی لوری سے سوتے تھے، آج موبائل کی روشنی میں آنکھیں جلائے رکھتے ہیں۔ پہلے باپ بچوں کو کہانیاں سناتا تھا، آج بچے یوٹیوب سے کہانیاں سنتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ گھروں میں رشتہ مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ جب گھر کی بنیاد کمزور ہو جائے تو معاشرہ کیسے مضبوط رہ سکتا ہے؟
تعلیم کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، مگر ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ کردار سازی، اخلاقیات، تہذیب اور شعور کا حصہ تعلیم سے تقریباً غائب ہو چکا ہے۔ نوجوان نمبروں کی دوڑ میں تو آگے نکلنا چاہتے ہیں، مگر مقصدِ زندگی سے ناواقف ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ کامیابی صرف اچھی نوکری یا دولت کا نام نہیں، بلکہ کامیابی خود شناسی، کردار کی بلندی اور انسانیت کی خدمت میں ہے۔
نسلِ نو کی تباہی کا ایک بڑا سبب معاشرتی بے حسی ہے۔ ہم دوسروں کے بچوں کے بگڑنے پر خاموش رہتے ہیں۔ محلے کا نوجوان نشے میں مبتلا ہو جائے تو لوگ افسوس تو کرتے ہیں مگر اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔ یہی خاموشی جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ اگر ہم نے آج اجتماعی طور پر اپنی نسل کی اصلاح کا بیڑا نہ اٹھایا تو کل ہمارے اپنے گھر بھی اس طوفان سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
میڈیا بھی اس تباہی میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات نوجوانوں کو ایسی زندگی دکھاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ دولت، شہرت اور عیش و عشرت کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ نتیجتاً نوجوان محنت، صبر اور قناعت کے بجائے شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہی شارٹ کٹ اکثر انہیں غلط راستوں پر لے جاتا ہے۔
دینی و روحانی تربیت کی کمی بھی ایک بڑا المیہ ہے۔ جب دل خدا سے خالی ہو جائے تو شیطان آسانی سے جگہ بنا لیتا ہے۔ عبادت محض رسم رہ گئی ہے، اخلاق اس کا حصہ نہیں رہا۔ دین صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے، مگر ہم نے اسے زندگی کے فیصلوں سے الگ کر دیا ہے۔ نوجوان اگر خدا کو پہچان لے تو وہ کبھی خود کو تباہ نہیں کرے گا۔
والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ آج والدین بچوں کو مہنگے کھلونے، جدید موبائل اور بہترین لباس تو دے دیتے ہیں مگر وقت نہیں دیتے۔ حالانکہ بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت والدین کی توجہ، محبت اور رہنمائی کی ہوتی ہے۔ اگر بچہ گھر میں اعتماد، محبت اور تربیت پائے گا تو باہر کی گمراہ کن دنیا اس پر کم اثر ڈالے گی۔
اساتذہ بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں۔ استاد صرف نصاب پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار ساز ہوتا ہے۔ اگر استاد خود مقصدِ تعلیم سے آگاہ ہو تو وہ نوجوانوں میں مثبت سوچ، خود اعتمادی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کر سکتا ہے۔ افسوس کہ آج استاد بھی امتحان اور نتیجے تک محدود ہو گیا ہے۔
حکومت اور اداروں کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں، کھیل کے میدانوں، لائبریریوں، تربیتی پروگراموں اور فکری نشستوں کا اہتمام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوان کو صحت مند مصروفیت مل جائے تو وہ خود بخود غلط راستوں سے دور رہے گا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نوجوان کو صرف نصیحت نہیں، اعتماد بھی چاہیے۔ اسے عزت دیں، اس کی بات سنیں، اسے احساس دلائیں کہ وہ قوم کا قیمتی اثاثہ ہے۔ جب نوجوان خود کو اہم سمجھے گا تو وہ خود کو برباد نہیں کرے گا۔
اصلاح کا سفر فرد سے شروع ہوتا ہے۔ ہر باپ اپنے بیٹے کو، ہر ماں اپنی بیٹی کو، ہر استاد اپنے شاگرد کو، ہر عالم اپنے سامع کو اور ہر قلم کار اپنے قاری کو درست سمت دے سکتا ہے۔ اگر ہم سب اپنی ذمہ داری ادا کر دیں تو نسلِ نو کو تباہی سے بچانا کوئی مشکل کام نہیں۔
آخر میں سوال ہم سب سے ہے:
کیا ہم آنے والی نسلوں کو ایک روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں یا اندھیروں میں دھکیل دینا چاہتے ہیں؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری پہچان لی تو کل ہماری نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
نسلِ نو کو تباہی سے بچانا صرف ایک نعرہ نہیں، یہ ایک قومی فرض ہے، ایک دینی ذمہ داری ہے اور ایک اخلاقی عہد ہے۔ آئیے! ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنی نوجوان نسل کو علم، شعور، اخلاق اور ایمان کی دولت سے مالا مال کریں گے، تاکہ آنے والا کل روشن، مضبوط اور باوقار ہو۔مساجد اور دینی مدارس بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Leave a Reply