rki.news
معین گریڈیہوی
ترے در پہ آگیا ہوں ابھی شافع مدینہ
نہیں چاہئے مجھے اب کوئی اور بھی خزینہ
سر گلستان عالم میں ہے خوشبوئے محمد
گل تر نے پالیا ہے شہ دین کا پسینہ
مرے عشق مصطفے کی کوئی ہمسری کرے کیا
مرے واسطے وہی ہے یہاں بے بہا خزینہ
شہ انبیاء جدھر سے بھی گزر گئے خدایا
کہاں اس سے قیمتی ہے یہاں کوئی آبگینہ
میں تو امتی ہوں آقا میری لاج بھی بچاتا
ہے عجیب کشمکش میں میرا مرنا میرا جینا
ہیں نرالی آن والے ہیں نرالی شان والے
ہے بھرا سبھی کا دامن خالی آیا تو کوٸی نا
وہ چمک گیا مقدر یہ کرم ہے میرے رب کا
جسے مل گیا جہاں میں میرے شاہ کا پسینہ
شہ انبیا ء نے راہیں جونکالیں امتی کی
اسی راہ پر تو چل کر مجھے آگیا ہے جینا
پہ امتی گرا جو کبھی اشک مصطفی کا
کہاں اس سے قیمتی ہے یہاں کوٸی بھی نگینہ
جو غلام مصطفے ہے جوکہ عاشق نبی ہے
”وہی جانتا ہے مرنا وہی جانتا ہے جینا“
یہ جو دل معیں کاہے وہ تو غم سے پھٹ رہاہے
ہے نکلتا جب یہاں سے حجاج کا سفینہ
Leave a Reply