Today ePaper
Rahbar e Kisan International

چغلی: ایک معاشرتی ناسور

Articles , Snippets , / Friday, January 30th, 2026

rki.news

محمد طاہر جمیل
دوحہ، قطر
کسی کی بات اس انداز سے کسی دوسرے تک پہنچانا کہ اس سے کسی کو نقصان پہنچے، چغلی کہلاتی ہے۔ چغل خور عموماً ایک کی بات دوسرے تک اس نیت سے پہنچاتا ہے کہ دلوں میں بدگمانی اور نفرت پیدا ہو۔ اس عمل کے نتیجے میں دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں، رشتے بکھر جاتے ہیں اور بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے۔معاشرہ اعتماد، محبت اور اخوت پر قائم ہوتا ہے۔ جب سچائی اور خیرخواہی ختم ہو جائیں تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ چغلی اسی کھوکھلے پن کو جنم دینے والی ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے۔ اخلاقی اعتبار سے یہ ایک بزدلانہ فعل ہے، کیونکہ چغل خور میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ سامنے آ کر اصلاح کرے، بلکہ پیٹھ پیچھے وار کر کے فساد پیدا کرتا ہے۔چغلی کو محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اسے “اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے” کے مترادف قرار دے کر اس کی کراہت واضح کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نہایت دو ٹوک الفاظ میں فرمایا:“چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”(صحیح بخاری: 6056، صحیح مسلم: 105)
جس معاشرے میں چغلی عام ہو جائے، وہاں اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر شک کرنے لگتے ہیں، دلوں میں کینہ اور بغض جنم لیتا ہے، جو بالآخر جھگڑوں اور خونی دشمنیوں تک جا پہنچتا ہے۔
حضرت امام غزالیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب “کیمیائے سعادت” میں چغلی کے انجام پر ایک عبرتناک واقعہ بیان کیا ہے۔ ایک غلام، جس کا واحد عیب چغل خوری تھا، اپنے آقا اور اس کی بیوی کے درمیان ایسی بدگمانی پیدا کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ انجام کار ایک بے گناہ عورت قتل ہو جاتی ہے اور پھر اس کے رشتہ دار بدلے میں شوہر کو قتل کر دیتے ہیں۔ یوں ایک چغل خور کی زبان پورے خاندان کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی زندہ مثال ہے کہ چغلی سوچنے سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتی ہے۔
چغل خور دراصل احساسِ کمتری اور حسد کا شکار ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشی اور کامیابی برداشت نہیں کر پاتا، اس لیے لوگوں کی نظروں میں دوسروں کو گرانے کے لیے چغلی کا سہارا لیتا ہے۔ وقتی طور پر اسے تسکین ملتی ہے اور بالآخر خود معاشرے میں ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔
اس ناسور سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص آپ کے پاس کسی کی شکایت لے کر آئے تو فوراً اسے قبول نہ کریں۔ قرآن کا حکم ہے کہ بات کی تحقیق کی جائے۔ بہتر یہ ہے کہ چغل خور کو وہیں روک دیا جائے، تاکہ اسے دوبارہ یہ حوصلہ نہ ہو۔جو شخص آپ کے پاس دوسروں کی برائی لاتا ہے، وہ یقیناً دوسروں کے پاس آپ کی برائی بھی کرے گا۔
ایک مشہور حکایت ہے کہ ایک شخص کسی دانا کے پاس آیا اور کہا
“کیا آپ نے سنا ہے کہ آپ کے دوست نے آپ کے بارے میں کیا کہا؟”
دانا نے پوچھا: “کیا وہ بات سچ ہے؟ کیا وہ اچھی ہے؟ اور کیا وہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟”
جب تینوں سوالوں کا جواب “نہیں” میں ملا تو دانا نے کہا:“جب وہ بات نہ سچی ہے، نہ اچھی اور نہ فائدہ مند، تو اسے سنانے کا کیا فائدہ؟”
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ چغلی صرف زبان سے نہیں ہوتی، بلکہ اشاروں، کنایوں، تحریروں اور آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بغیر سوچے سمجھے اور تحقیق کیے کہ کسی کی بات چاہے غلط ہو ،کو آگے فارورڈ کرنا بڑا خطرناک ہے کیونکہ جو بھی اسے آگے فارورڈ کرتا جائے گا آپ کا گناہ بڑھتا جائے گا۔سقراط کے مطابق عظیم ذہن ، خیالات پر گفتگو کرتے ہیں، چھوٹے ذہن، لوگوں پر۔ چغلی اسی چھوٹے پن کی علامت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو معاشرے کی رگوں میں دوڑتے ہوئے محبت کے لہو کو منجمد کر دیتا ہے۔
امام غزالیؒ کے مطابق چغل خور شیطان کا آلہ کار ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان دلوں میں فساد ڈالتا ہے جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ایلینور روزویلٹ کے بقول، کوئی بھی آپ کی اجازت کے بغیر آپ کو حقیر محسوس نہیں کروا سکتا، مگر چغل خور خود کو بڑا دکھانے کے لیے دوسروں کو چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر ہم ایک پُرامن اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زبانوں کو دوسروں کے عیب اچھالنے کے بجائے اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں، دوسروں کے عیب چھپانا اللہ کی صفت ہے، اور جو دنیا میں عیب پوشی کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اس ناسور سے محفوظ رکھے ۔ اور ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے آمین۔


One response to “چغلی: ایک معاشرتی ناسور”

  1. Tahir says:

    Good article on bacbiting

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International