Today ePaper
Rahbar e Kisan International

آتش زدگی، حکومتی پالیسیاں اور ہماری اجتماعی ناکامی

Events - تقریبات , Snippets , / Tuesday, January 27th, 2026

rki.news

کالم نگار: سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

ملک بھر میں آتش زدگی کے حالیہ واقعات محض چند حادثات نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہیں جو برسوں سے غفلت، ناقص حکمرانی اور کمزور عملدرآمد کے سہارے چل رہا ہے۔ شاپنگ مالز، ہوٹلز، فیکٹریاں، بازار اور رہائشی عمارتیں، جہاں بھی آگ بھڑکتی ہے، وہاں صرف لکڑی، کپڑا یا کنکریٹ نہیں جلتا بلکہ حکومتی پالیسیاں، انتظامی دعوے اور انسانی جان کی قدر بھی راکھ میں بدل جاتی ہے۔

حکومت کے پاس فائر سیفٹی سے متعلق قوانین اور بلڈنگ کوڈز موجود ہیں۔ کاغذوں میں ایمرجنسی اخراج کے راستے، فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم اور فائر فائٹنگ آلات سب لازم ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ سب زیادہ تر فائلوں، نقشوں اور سرٹیفکیٹس تک محدود ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ قوانین کیوں نہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو قوانین موجود ہیں، ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟

آتش زدگی کے اکثر واقعات میں ایک جیسی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ناقص الیکٹریکل وائرنگ، غیر معیاری آلات، آتش گیر مواد کا غیر محفوظ ذخیرہ، اور سب سے بڑھ کر حفاظتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی۔ اس سب کے باوجود ایسی عمارتیں برسوں تک کام کرتی رہتی ہیں، کیونکہ معائنے کا نظام کمزور ہے اور فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس اکثر خانہ پُری، سفارش یا رشوت کے ذریعے حاصل کر لیے جاتے ہیں۔

حکومتی پالیسیوں کا ایک بڑا مسئلہ نگرانی اور احتساب کا فقدان ہے۔ بلدیاتی ادارے، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر کسی ایک ادارے پر یہ واضح ذمہ داری عائد نہیں کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ انسانی جان واقعی محفوظ ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حادثے سے پہلے کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا، اور حادثے کے بعد سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر معاملات میں معاشی اور سیاسی مفادات کو انسانی جان پر ترجیح دی جاتی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور حفاظتی خامیوں کو اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کہیں کاروبار متاثر نہ ہو یا کسی بااثر طبقے کو ناراض نہ کرنا پڑے۔ مگر جب آگ لگتی ہے تو اس کا ایندھن ہمیشہ عام شہری بنتا ہے۔

حادثے کے بعد حکومتی ردعمل بھی ایک طے شدہ انداز میں سامنے آتا ہے۔ اعلیٰ سطحی انکوائری کے اعلانات، چند افسران کی معطلی، اور متاثرین کے لیے امدادی پیکجز۔ مگر جیسے ہی میڈیا کی توجہ کم ہوتی ہے، اصلاحات کا عمل بھی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ نہ مستقل پالیسی اصلاحات ہوتیں، نہ سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جاتا ہے، اور نہ ہی ذمہ داروں کو ایسی سزا ملتی ہے جو آئندہ کے لیے مثال بن سکے۔

ریسکیو اداروں کی قربانیاں اور محنت اپنی جگہ قابلِ تحسین ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کا کردار صرف آگ لگنے کے بعد حرکت میں آنا ہے؟ اگر پیشگی معائنہ، غیر اعلانیہ چیکس، اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے تو شاید کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ آتش زدگی کو حادثہ نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی سمجھا جائے۔ غیر محفوظ عمارتوں کو بلا امتیاز بند کیا جائے۔ فائر سیفٹی قوانین پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہو۔ سال میں ایک بار نہیں بلکہ مسلسل اور اچانک معائنے کیے جائیں۔ اور سب سے بڑھ کر، انسانی جان کے ضیاع پر ذمہ دار افراد کو محض معطل نہیں بلکہ قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یہ آگ ہمیں بار بار ایک ہی سبق دے رہی ہے، مگر ہم سیکھنے کو تیار نہیں۔ جب تک غفلت ہماری پالیسی اور مفاد ہماری ترجیح رہے گا، تب تک یہ شعلے ہمارے شہروں اور ضمیروں کو جلاتے رہیں گے۔

کیونکہ آگ صرف عمارتوں کو نہیں جلاتی،
یہ ریاستی سنجیدگی کا امتحان بھی لیتی ہے
اور اس امتحان میں ہم بار بار ناکام ہو رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International