rki.news
تحریر: طارق محمود
میرج کنسلٹنٹ
ایکسپرٹ میرج بیورو
بین الاقوامی سیاست میں اتحادیوں کا تصور ہمیشہ سادہ نہیں رہا۔ بظاہر دوستی، تعاون اور مشترکہ مفادات کے دعووں کے پیچھے اکثر ایسی پیچیدہ حقیقتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ واضح ہوتی ہیں۔ آج کی دنیا میں کسی بھی ریاست کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ وہ کس کے ساتھ کھڑی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد کو کس حد تک محفوظ رکھ پاتی ہے۔
امریکہ کو عالمی نظام میں ایک بااثر اور طاقتور ریاست کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں اتحادیوں کی مدد ایک اہم عنصر رہی ہے، تاہم یہ مدد ہمیشہ اس کے وسیع تر اسٹریٹجک مفادات سے جڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں امریکہ کے تعلقات بعض ممالک کے ساتھ مضبوط رہے اور بعض کے ساتھ محدود یا وقتی ثابت ہوئے۔ اس پہلو کو نظر میں رکھنا ہر اتحادی کیلئے ناگزیر ہے۔
دوسری جانب روس اور چین کو ابھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی سفارتی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ تاہم ان کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح احتیاط دکھائی دیتی ہے۔ یہ ممالک عموماً براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے سیاسی حمایت، اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط تک خود کو محدود رکھتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد اپنے داخلی استحکام اور عالمی مفادات کا تحفظ سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے ساتھ روس کے تعلقات اس حقیقت کی ایک مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں جہاں تعاون کے باوجود توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ ایرانی سیاسی حلقوں میں یہ بحث وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہے کہ علاقائی تنازعات میں شمولیت کے باوجود انہیں وہ اسٹریٹجک فوائد حاصل نہیں ہو سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ یہ صورتحال اس امر کی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں توقعات اور عملی نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔
اسی طرح لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے برسوں سے ایک آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ انہیں عالمی سطح پر سیاسی حمایت ضرور حاصل رہی، مگر عملی تحفظ اور اقتصادی استحکام کا انحصار بالآخر ان کی اپنی داخلی پالیسیوں اور علاقائی تعاون پر ہی رہا۔
ان مثالوں کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک محتاط اور تدریجی راستہ اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنا ایک مشکل مگر ضروری عمل ہے، جس کا مقصد محاذ آرائی کے بجائے توازن اور مفاہمت کو فروغ دینا ہے۔ تجارت، دفاعی تعاون اور سفارت کاری کو ترجیح دینا اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی سیاست میں شاید سب سے اہم سبق یہی ہے کہ مستقل اتحاد کم اور مستقل مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ ریاستیں جو اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے لچکدار اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپناتی ہیں، وہ نہ صرف مشکلات سے نکلنے میں کامیاب رہتی ہیں بلکہ اپنی خودمختاری اور قومی مفاد کو بھی بہتر طور پر محفوظ رکھ پاتی ہیں۔
Leave a Reply