rki.news
میرے پاس میرا قلم ہے، میری تحریریں ہیں، اور دل کی سچائی بس یہی اثاثے میرے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں ہر انسان کا مزاج، سوچ اور ترجیح الگ ہے۔ کسی کے نزدیک زندگی کی معراج گاڑی، بنگلہ اور بینک بیلنس میں ہے، تو کوئی سمجھتا ہے کہ دولت ہی سب کچھ ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو انسانیت کے لیے جیتے ہیں جو درد بانٹنے میں سکون پاتے ہیں۔
کوئی انسان پھولوں کی نازک کلیاں اپنے ہاتھوں سے اگاتا ہے، ان کی خوشبو سے قلب کو معطر کرتا ہےاور کوئی ایسے بھی ہیں جو انہی پھولوں کو بےدردی سے مسل کر گزر جاتے ہیں کوئی خزاں کے جھڑتے پتوں کو دیکھ کر افسردہ ہو جاتا ہے موسم کی بےوفائی کو دل پر محسوس کرتا ہے، تو کوئی اسی منظر کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پرکچھ خاص لمحےکے عنوان سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
کہیں ایک باپ یا ماں شب و روز کی مشقت میں خود کو جلا کر بچوں کے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، اپنے ارمانوں کو دفن کرکے اولاد کے خوابوں کو زندگی دیتا ہے، اور کہیں کوئی ایسا بھی ہے جو دوسروں کے بچوں کے منہ سے نوالا چھین لینے کو کاروبارِ زندگی سمجھتا ہے۔
ہر شخص زندگی کی اس اندھی دوڑ میں کسی نہ کسی سمت بھاگ رہا ہے کسی نے دوسروں کی زندگی آسان بنانے میں تسکین پائی، اور کوئی ایسا بھی ہے جو دوسروں کی سانسوں کی ڈور کاٹ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کو فخر سمجھتا ہے۔ ایک جانب کوئی اپنے قلم کو ضمیر کا سوداگر بنا کر پیسے کے عوض بیچ رہا ہے، تو دوسری طرف کوئی اپنے خیالات کی روشنی کو الفاظ کی صورت میں قرطاس پر بکھیر کر ضمیر کی قید میں گرفتار ہو رہا ہے۔
کہیں ایک ماں ہے، جو حوصلے اور قربانی کی علامت حضرت بی بی ہاجرہ کی پیروی کرتے ہوئے، اپنے نومولود کے لیے دوڑتی دوڑتی جان دے دیتی ہے اور کہیں وہی ماں اپنے معصوم بچوں کی لاشوں کو پانی میں تیرتے دیکھ کر اُسے خدا کی آزمائش سمجھ کر صبر کا کڑوا گھونٹ پی لیتی ہے۔
کہیں بمبار طیارے ہیں، جو شب و روز معصوموں کے خون سے اپنی گھن گرج کو مزید گہرا اور ہولناک بناتے ہیں، اور کہیں یہی طیارے کسی کی خوشیوں کسی کی شادیوں میں آسمان پر رقصاں نظر آتے ہیں منظر ایک سا مفہوم جدا۔
لکھنے کو تو بہت کچھ ہے، اس دنیا میں درد بھی بےشمار ہیں اور تضادات بھی، مگر کبھی کبھی قلم بھی اس دنیائے رنگ و بو میں خاموش ہو جاتا ہے۔ جیسے وہ بھی اس بےحسی اس عدم توازن، اس شور میں اپنی آواز کھو بیٹھا ہو۔
شاہ فیضی، کوئٹہ
Leave a Reply